رمضان المبارک کی فضیلت وآداب
حق سبحانہ وتعالیٰ نے رمضان المبارک میں اجر وثواب کے پیمانے کو چند در چند بڑھایا، نوافل کا ثواب فرائض کے برابر، فرض کا ثواب ستر (70) فرائض کے برابر ہوتا ہے، اس طرح دعا، ذکر، تلاوت جتنے بھی اعمالِ خیر واعمالِ صالحہ ہیں، ان کا بڑا اجر وثواب ہے، آج کل روزانہ آپ سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان میں خیر وبرکت کا سلسلہ بہت بڑھایا ہے اور اس کے اسباب بھی فراہم کیے ہیں اور اس راستے کی مشکلات کو بھی کم کیا ہے، شیطان اور سرکش جنات کو بند کردیا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے ہیں اور اعلان ہے:
”یا باغی الخیر أقبِل، ویا باغی الشر اَقصِر“
(جامع الترمذی، ابواب الصوم، باب ما جاء فی فضل شھر رمضان 1/86، مط فاروقی کتب خانہ ملتان، النسائی، کتاب الصیام ص: 5، ابن ماجہ ص: 2، مسند احمد ص: 5 - 411 - 312)ترجمہ: اے خیر کے طلب گار! آگے بڑھ اور اے شر کے طلب گار! باز آجا۔
اور روزانہ کتنے ہی لوگوں کو جہنم کے عذاب سے خلاصی ملتی ہے، آپ اندازہ لگائیں کہ رمضان میں انعامات کی کتنی کثرت ہے اور اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام کتب سماویہ کو رمضان میں نازل فرمایا ہے، یہ کتابیں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہیں، آپ نے اللہ تعالیٰ کو کیسے پہچانا؟ وحی کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ حی وقیوم ہے، محی وممیت ہے، خبیر وعلیم ہے، سمیع وبصیر ہے، یہ سب کچھ وحی سے معلوم ہوا، ایک غلام کے لیے کتنی خوشی کی بات ہے اور کتنا بڑا انعام ہے کہ غلام کو معلوم ہو جائے کہ میرا آقا ان صفات کے ساتھ موصوف ہے اور یہ سب صفات وحی سے معلوم ہوئیں تو گویا وحی نعمتِ خاصہ کا مظہر ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمام کتابیں جو وحی خداوندی ہیں رمضان میں نازل فرمائیں اور رمضان ہمیں عطا فرمایا۔
اب ہمیں رمضان کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، جتنا اہتمام ہوسکے کریں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا کتنا اہتمام فرماتے تھے، احادیث میں آتا ہے کہ جب رمضان قریب آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے تھے اور رمضان کی بھر پور تیاری فرماتے تھے۔ تلاوت، ذکر وفکر، نوافل، تراویح، صدقہ وخیرات اور حسنِ سلوک وغیرہ میں بہت اضافہ ہو جاتا تھا، رمضان میں مسلمان کے رزق وروزی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ مشاہدہ ہے کہ کھانے پینے کے سلسلہ میں جو اہتمام رمضان میں ہوتا ہے اس کی توفیق عام دنوں میں نہیں ہوتی، یُزاد فیہ رزق الموٴمن․ (مشکوة: 1/ 173) پھر آپ غور کریں کہ جس طرح غذائے جسمانی میں اضافہ اور برکت ہوتی ہے اسی طرح روحانی غذا میں بھی اضافہ اور برکت ہوتی ہے۔